مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بلومبرگ نے مغربی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے باوجود ایران نے اپنے میزائلوں اور ڈرونز کے پیداواری مراکز کو محفوظ رکھا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے پاس اب بھی بیلسٹک میزائلوں اور بعض بحری جہازوں کو نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کے مناسب ذخائر موجود ہیں اور وہ ان میں اضافہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
مغربی حکام نے مزید کہا کہ ایران کی صلاحیتوں کے بارے میں ان کا جائزہ، ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے ان بار بار کیے جانے والے دعوؤں سے متصادم ہے جن میں کہا گیا ہے کہ فضائی حملوں نے ایران کی فوجی طاقت ختم کر دی ہے۔
ان حکام نے کہا کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف اپنے حملے دوبارہ شروع کرتا ہے تو تہران کے پاس ان حملوں کا جواب دینے کے لیے کافی آتشیں قوت موجود ہے۔
اس سے قبل بھی امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ جس جنگ کا مقصد دنیا کے سامنے امریکہ کی طاقت اور اثر و رسوخ کا مظاہرہ کرنا تھا، اس کے نتائج بالکل برعکس نکلے ہیں اور اب یہ جنگ ’’غیر ارادی نتائج‘‘ کے حوالے سے ایک سبق بن چکی ہے۔
اس اخبار نے ہفتے کے اختتام پر انگلینڈ کے ایک فضائی اڈے سے بی-1 ماڈل کے 12 بمبار طیاروں کی روانگی کا بھی ذکر کیا۔ یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس حکم کے تحت کیا گیا تھا، جس کا مقصد ’’ایک ایسی دھمکی کے جواب میں دانش مندانہ احتیاطی تدبیر اختیار کرنا تھا جس کی نوعیت ظاہر نہیں کی گئی۔
آپ کا تبصرہ